6 اشعار

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے

Go raat meri subh ki mehram to nahin hai

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے

«گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہے

کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیںہرچند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے

چاہے وہ کسی کا ہو لہو دامن گل پرصیاد یہ کل رات کی شبنم تو نہیں ہے

اتنی بھی ہمیں بندش غم کب تھی گواراپردے میں تری کاکل پرخم تو نہیں ہے

اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دلاے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے

صحرا میں بگولا بھی ہے مجروحؔ صبا بھیہم سا کوئی آوارۂ عالم تو نہیں ہے

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں