8 اشعار

لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں

Lazzat-e-sham, shab-e-hijr khuda daad nahiñ

لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں

«لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں» میراجی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیںاِس سے بڑھ کر ہمیں رازِ غمِ دل یاد نہیں

کیفیت خانہ بدوشانِ چمن کی مت پُوچھیہ وہ گُلہائے شگفتہ ہیں جو برباد نہیں

یک ہمہ حُسنِ طلب، یک ہمہ جانِ نغمہتم جو بیداد نہیں ہم بھی تو فریاد نہیں

زندگی سیلِ تن آساں کی فراوانی ہےزندگی نقش گرِ خاطرِ ناشاد نہیں

اُن کی ہر اِک نگہ آموختۂ عکسِ نشاطہر قدم گرچہ مجھے سیلیِ استاد نہیں

دیکھتے دیکھتے ہر چیز مٹی جاتی ہےجنّتِ حُسنِ نفَس و جنّتِ شدّاد نہیں

ہر جگہ حُسنِ فزوں اپنی مہک دیتا ہےباعثِ زینتِ گُل تو قدِ شمشاد نہیں

خانہ سازانِ عناصر سے یہ کوئی کہہ دےپُرسکوں آبِ رواں، نوحہ کناں باد نہیں​

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں