14 اشعار

زندگی ختم ہوئی

Zindagi khatm hui

زندگی ختم ہوئی

«زندگی ختم ہوئی» میراجی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

زندگی ختم ہوئیجب تک اس دل میں رہا جوشِ جنوں

تب تک اس دل کو میسر تھی حیاتاب نہیں ، آہ نہیں ہے وہ بات

زندگی ختم ہوئی ۔اک دن تھا کہ محبت تھی مرے دل کے قریں

تازگی ، ایسی تھی اک پھول تھا دلچاندنی رات کا نقشہ تھا تمام

میں تھا اور ساتھ کوئی اور بھی تھاصحنِ گلشن میں تھا مستانہ خرام

مری ہمدم کا تھا پیکر نغمہاور میں خود بھی تھا یکسر نغمہ

آنکھ بھی نغمہ ، منظر نغمہکیسے لمحے تھے کہ حاصل مجھے گویائی تھی

لیکن احساس کو حاصل نہیں اب گویائیکیوں چلی بادِ فنا ؟

مٹ گیا عشق کا پہلا نغمہنکہتِ عشرتِ دل آوارہ

اب نہیں ، آہ ! وہ منظر باقیتیر و تار ہے ، تاریک ہے رات

اب نہیں ، آہ !نہیں ہے وہ باتزندگی ختم ہوئی ۔

یاس نےیاس نے آکے مرے دل کو کیا ہے زخمی

چھین لی ، چھین ہی لی یاس نے راحت دل کی ۔کس طرح لَوٹ کے اب آۓ گی حالت پہلی

تیرہ و تاریک ہے تاریک ہے راتزندگی ختم ہوئی ۔

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں