9 اشعار

میں ڈرتا ہوں مسرت سے

Maiñ darta hooñ masarrat se

میں ڈرتا ہوں مسرت سے

«میں ڈرتا ہوں مسرت سے» میراجی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

میں ڈرتا ہوں مسرت سےمیں ڈرتا ہوں مسرت سے

کہیں یہ میری ہستی کوپریشاں، کائناتی نغمہ ء مبہم میں الجھا دے

کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورتمری ہستی ہے اک ذرہ

کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے مہرِ عالم تاب کا نشہستاروں کا علمبردار کر دے گی ،مسرت میری ہستی کو

اگر پھر سے اسی بلندی سے ملا دے گیتو میں ڈرتا ہوں۔۔۔۔ڈرتا ہوں

کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورتمیں ڈرتا ہوں مسرت سے

کہیں یہ میری ہستی کوبھلا کر تلخیاں ساری

بنا دے دیوتاؤں ساتو پھر میں خواب ہی بن کر گزاروں گا

زمانہ اپنی ہستی کا

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں