9 اشعار

ترغیب

Targheeb

ترغیب

«ترغیب» میراجی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی» میں 29 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

رسیلے جرائم کی خوشبومرے ذہن میں آ رہی ہے

رسیلے جرائم کی خوشبومجھے حد ادراک سے دور لے جا رہی ہے

جوانی کا خوں ہےبہاریں ہیں موسم زمیں پر!

پسند آج مجھ کو جنوں ہےنگاہوں میں ہے میرے نشے کی الجھن

کہ چھایا ہے ترغیب کا جال ہر اک حسیں پررسیلے جرائم کی خوشبو مجھے آج للچا رہی ہے!

قوانین اخلاق کے سارے بندھن شکستہ نظر آ رہے ہیںحسین اور ممنوع جھرمٹ مرے دل کو پھسلا رہے ہیں

یہ ملبوس ریشم کے اور ان کی لرزشیہ غازہ..... یہ انجن

نسائی فسوں کی ہر اک موہنی آج کرتی ہے سازشمرے دل کو بہکا رہی ہے!

مرے ذہن میں آ رہی ہےرسیلے جرائم کی خوشبو!

— میراجی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں