10 اشعار

کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے

Koī Anīs koī āshnā nahīñ rakhte

کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے

«کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے» میر انیس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتےکسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے

کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبرکہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے

فقیر دوست جو ہو ہم کو سرفراز کرےکچھ اور فرش بجز بوریا نہیں رکھتے

مسافرو شب اول بہت ہے تیرہ و تارچراغ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے

وہ لوگ کون سے ہیں اے خدائے کون و مکاںسخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے

مسافران عدم کا پتہ ملے کیونکروہ یوں گئے کہ کہیں نقش پا نہیں رکھتے

تپ دروں غم فرقت ورم پیادہ رویمرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے

کھلے گا حال انہیں جب کہ آنکھ بند ہوئیجو لوگ الفت مشکل کشا نہیں رکھتے

جہاں کی لذت و خواہش سے ہے بشر کا خمیروہ کون ہیں کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے

انیسؔ بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلوجو توشۂ سفر کربلا نہیں رکھتے

— میر انیس