9 اشعار

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

Shahīd-e-ishq hue Qais-e-nāmdār kī tarah

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

«شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح» میر انیس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرحجہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح

کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرحڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح

سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخکہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح

تمام خلق ہے خواہان آبرو اے ربچھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح

تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیںمری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح

ہماری قبر پہ کیا احتیاج‌ عنبر و عودسلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح

نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلےجہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح

تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیںپڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح

انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیریبڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح

— میر انیس