7 اشعار

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے

Khud navīd-e-zindagī lāī qazā mere liye

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے

«خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے» میر انیس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیےشمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیے

زندگی میں تو نہ اک دم خوش کیا ہنس بول کرآج کیوں روتے ہیں میرے آشنا میرے لیے

کنج عزلت میں مثال آسیا ہوں گوشہ گیررزق پہنچاتا ہے گھر بیٹھے خدا میرے لیے

تو سراپا اجر اے زاہد میں سر تا پا گناہباغ جنت تیری خاطر کربلا میرے لیے

نام روشن کر کے کیونکر بجھ نہ جاتا مثل شمعنا موافق تھی زمانہ کی ہوا میرے لیے

ہر نفس آئینۂ دل سے یہ آتی ہے صداخاک تو ہو جا تو حاصل ہو جلا میرے لیے

خاک سے ہے خاک کو الفت تڑپتا ہوں انیسؔکربلا کے واسطے میں کربلا میرے لیے

— میر انیس