8 اشعار

مرا راز دل آشکارا نہیں

Mirā rāz-e-dil āshkārā nahīñ

مرا راز دل آشکارا نہیں

«مرا راز دل آشکارا نہیں» میر انیس کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

مرا راز دل آشکارا نہیںوہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیں

وہ گل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگوہ بو ہوں کہ جو آشکارا نہیں

وہ پانی ہوں شیریں نہیں جس میں شوروہ آتش ہوں جس میں شرارہ نہیں

بہت زال دنیا نے دیں بازیاںمیں وہ نوجواں ہوں جو ہارا نہیں

جہنم سے ہم بے قراروں کو کیاجو آتش پہ ٹھہرے وہ پارا نہیں

فقیروں کی مجلس ہے سب سے جداامیروں کا یاں تک گزارا نہیں

سکندر کی خاطر بھی ہے سد بابجو دارا بھی ہو تو مدارا نہیں

کسی نے تری طرح سے اے انیسؔعروس سخن کو سنوارا نہیں

— میر انیس