16 اشعار

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست

Aamad-e-khat se hua hai sard jo bazaar-e-dost

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست

«آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔

آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوستدود شمع کشتہ تھا شاید خط رخسار دوست

اے دل ناعاقبت اندیش ضبط شوق کرکون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست

خانہ ویراں سازی حیرت تماشا کیجیےصورت نقش قدم ہوں رفتۂ رفتار دوست

عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھےکشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست

چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہےدیدۂ پر خوں ہمارا ساغر سرشار دوست

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میںبے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست

تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلکمجھ کو دیتا ہے پیام وعدۂ دیدار دوست

جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغسر کرے ہے وہ حدیث زلف عنبر بار دوست

چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگرہنس کے کرتا ہے بیان شوخی گفتار دوست

مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیےتا بیاں کیجے سپاس لذت آزار دوست

یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست

چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیںآئنہ ہے قالب خشت در و دیوار دوست

برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاںاشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتار دوست

ہے سوا نیزے پہ اس کے قامت نوخیز سےآفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست

اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہکردنی ہے جمع تاب شوق دیدار دوست

لغزشت مستانہ و جوش تماشا ہے اسدؔآتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست

— مرزا غالب