3 اشعار

افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے

Afsoos ke dandaan ka kiya rizq falak ne

افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے

«افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 23 سیکنڈ ہے۔

افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نےجن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت

کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دیناخالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت

لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرمتا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت

— مرزا غالب