13 اشعار

عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا

Arz-e-niyaz-e-ishq ke qabil nahin raha

عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا

«عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئےہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا

مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میںشایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا

برروئے شش جہت در آئینہ باز ہےیاں امتیاز ناقص و کامل نہیں رہا

وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسنغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا

گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگارلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

دل سے ہوائے کشت وفا مٹ گئی کہ واںحاصل سوائے حسرت حاصل نہیں رہا

بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولےآئینہ آہ میرے مقابل نہیں رہا

جاں داد گاں کا حوصلہ فرصت گداز ہےیاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا

ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روزجز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا

اے آہ میری خاطر وابستہ کے سوادنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا

انداز نالہ یاد ہیں سب مجھ کو پر اسدؔجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں