عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
کلام: مرزا غالب
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئےہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغ حسرت ہستی لیے ہوئےہوں شمع کشتہ در خور محفل نہیں رہا
درد منت کش دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا