8 اشعار

برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے

Barish-e-girya-e-aashiq hai dekha chahiye

برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے

«برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیےکھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن

الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگیسرو ہے با وصف آزادی گرفتار چمن

صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمنجانشین جوہر آئینہ ہے خار چمن

ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمنقالب گل میں ڈھلی ہے خشت دیوار چمن

تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے بہارجوہر آئینہ ہے یاں نقش احضار چمن

بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکستہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن

وقت ہے گر بلبل مسکیں زلیخائی کرےیوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن

وحشت افزا گریہ ہا موقوف فصل گل اسدؔچشم دریا ریز ہے میزاب سرکار چمن

— مرزا غالب