9 اشعار

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

Bas ke dushwaar hai har kaam ka aasaan hona

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

«بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہوناآدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کیدر و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا

وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کوآپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہےجوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا

عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھعید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاطتو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا

عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانالذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

— مرزا غالب