10 اشعار

بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

Bazm-e-shehanshah mein ash'ar ka daftar khula

بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

«بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا

شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلااس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا

گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریبآستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھیدپر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیالخلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیںزلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیاجتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزولآج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا

کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حالنامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بندواسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا

— مرزا غالب