9 اشعار

بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی

Basaat-e-ajz mein tha ek dil yak qatra-e-khoon woh bhi

بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی

«بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی

رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف سےتکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی

خیال مرگ کب تسکیں دل آزردہ کو بخشےمرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی

نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی

نہ اتنا برش تیغ جفا پر ناز فرماؤمرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی

مئے عشرت کی خواہش ساقی گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی

مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی

مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہےکہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی

نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کے آنے کاکہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی

— مرزا غالب