10 اشعار

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے

Chahiye achchhon ko jitna chahiye

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے

«چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

صحبت رنداں سے واجب ہے حذرجائے مے اپنے کو کھینچا چاہیے

چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دلبارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے

چاک مت کر جیب بے ایام گلکچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے

دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے

دشمنی نے میری کھویا غیر کوکس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے

اپنی رسوائی میں کیا چلتی ہے سعییار ہی ہنگامہ آرا چاہیے

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

غافل ان مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچھا چاہیے

چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسدؔآپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

— مرزا غالب