10 اشعار

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے

Be-e'tidaliyon se sabak sab mein hum hue

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے

«بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے

سختی کشان عشق کی پوچھے ہے کیا خبروہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے

تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سےاجزائے نالہ دل میں مرے رزق ہم ہوئے

اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشقجو پانو اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے

نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے

چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے

— مرزا غالب