5 اشعار

چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے

Chak ki khwahish agar wahshat ba uriyaani kare

چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے

«چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرےصبح کے مانند زخم دل گریبانی کرے

جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہ حیرانی کرے

ہے شکستن سے بھی دل نومید یا رب کب تلکآبگینہ کوہ پر عرض گراں جانی کرے

مے کدہ گر چشم مست ناز سے پاوے شکستموئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے

خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے جو کچھ پریشانی کرے

— مرزا غالب