9 اشعار

چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے

Chashm-e-khooban khamoshi mein bhi nawa-pardaz hai

چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے

«چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہےسرمہ تو کہوے کہ دود شعلۂ آواز ہے

پیکر عشاق ساز طالع نا ساز ہےنالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے

دست گاہ دیدۂ خوں بار مجنوں دیکھنایک بیاباں جلوۂ گل فرش پا انداز ہے

چشم خوباں مے فروش نشہ زار ناز ہےسرمہ گویا موج دود شعلۂ آواز ہے

ہے صریر خامہ ریزش‌ ہاۓ استقبال نازنامہ خود پیغام کو بال و پر پرواز ہے

سرنوشت اضطراب انجامی الفت نہ پوچھنال خامہ خار خار خاطر آغاز ہے

شوخی اظہار غیر از وحشت مجنوں نہیںلیلیٰ معنی اسدؔ محمل نشین راز ہے

نغمہ ہے کانوں میں اس کے نالۂ مرغ اسیررشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے

شرم ہے طرز تلاش انتخاب یک نگاہاضطراب چشم برپا دوختہ غماز ہے

— مرزا غالب