8 اشعار

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

Daim pada hua tere dar par nahin hoon main

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

«دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیےلوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطےآخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھےلعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغرتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں

کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیےکیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں

غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعاوہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

— مرزا غالب