9 اشعار

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا

Dehr mein naqsh-e-wafa vajh-e-tasalli na hua

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا

«دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہواہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبایہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا

میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوںوہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

دل گزر گاہ خیال مے و ساغر ہی سہیگر نفس جادۂ سر منزل تقوی نہ ہوا

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھیگوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا

کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجےہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا

مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔناتوانی سے حریف دم عیسی نہ ہوا

نہ ہوئی ہم سے رقم حیرت خط رخ یارصفحۂ آئنہ جولاں گہ طوطی نہ ہوا

وسعت رحمت حق دیکھ کہ بخشا جاوےمجھ سا کافر کہ جو ممنون معاصی نہ ہوا

— مرزا غالب