9 اشعار

در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

Dar-khor-e-qahr-o-ghazab jab koi hum sa na hua

در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

«در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہمالٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کاروبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا

کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباںتیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا

سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیاخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملاکام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا

ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں نابحمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا

قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کلکھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا

تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزےدیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

— مرزا غالب