10 اشعار

درد منت کش دوا نہ ہوا

Dard minnat-kash-e-dawa na hua

درد منت کش دوا نہ ہوا

«درد منت کش دوا نہ ہوا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

درد منت کش دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

کیا وہ نمرود کی خدائی تھیبندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

جان دی دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

زخم گر دب گیا لہو نہ تھماکام گر رک گیا روا نہ ہوا

رہزنی ہے کہ دل ستانی ہےلے کے دل دل ستاں روانہ ہوا

کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں