10 اشعار

دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں

Deewangi se dosh pe zunnar bhi nahin

دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں

«دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیںیعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

دل کو نیاز حسرت دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں

ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاںطاقت بقدر لذت آزار بھی نہیں

شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوشصحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں

گنجایش عداوت اغیار یک طرفیاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں

ڈر نالہ ہائے زار سے میرے خدا کو مانآخر نوائے مرغ گرفتار بھی نہیں

دل میں ہے یار کی صف مژگاں سے روکشیحالانکہ طاقت خلش خار بھی نہیں

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدالڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں

— مرزا غالب