8 اشعار

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں

Dhota hoon jab main peene ko us seem-tan ke paon

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں

«دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤںہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیرزن کے پاؤں

بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں

مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دورتن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں

اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگہلتے ہیں خود بہ خود مرے اندر کفن کے پاؤں

ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغ چمن کے پاؤں

شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں

غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہوپیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں

— مرزا غالب