11 اشعار

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

Dil-e-nadan tujhe hua kya hai

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

«دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے

شکن زلف عنبریں کیوں ہےنگہ چشم سرمہ سا کیا ہے

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیںابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے

ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے

جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں