9 اشعار

دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے

Dekh kar dar parda garm-e-daaman-afshani mujhe

دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے

«دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے

بن گیا ہیں تیغ نگاہ یار کا سنگ فساںمرحبا میں کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے

کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے محو پرسش ‌ہاۓ پنہانی مجھے

میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگیلکھ دیا منجملۂ اسباب ویرانی مجھے

بد گماں ہوتا ہے وہ کافر نہ ہوتا کاش کےاس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے

وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیالے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے

وعدہ آنے کا وفا کیجے یہ کیا انداز ہےتم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے

ہاں نشاط آمد فصل بہاری واہ واہپھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے

دی مرے بھائی کو حق نے از سر نو زندگیمیرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے

— مرزا غالب