10 اشعار

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے

Dekhna qismat ke aap apne pe rashk aa ja'e hai

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے

«دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےمیں اسے دیکھوں بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندی صہبا سے پگھلا جائے ہے

غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے

دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہنغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے

گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشقپر ہم ایسے کھوے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے

اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاںمثل نقش مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے

ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھلتا جاے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے

نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے

سایہ میرا مجھ سے مثل دود بھاگے ہے اسدؔپاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے

— مرزا غالب