12 اشعار

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے

Dard se mere hai tujh ko be-qarari haay haay

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے

«درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے

کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے

عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے

زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگییعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے

گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے

شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میںختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے

خاک میں ناموس پیمان محبت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسم یاری ہائے ہائے

ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے

کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگالہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے

گوش مہجور پیام و چشم محروم جمالایک دل تس پر یہ نا امید واری ہائے ہائے

عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگرہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوق خواری ہائے ہائے

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں