7 اشعار

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا

Dhamki mein mar gaya jo na bab-e-nabard tha

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا

«دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھاعشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوااڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا

تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میںمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اباس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کیدل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا

احباب چارہ سازی وحشت نہ کر سکےزنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا

یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہےحق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

— مرزا غالب