9 اشعار

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

Dil hi to hai na sang-o-khisht dard se bhar na aaye kyon

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

«دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوںروئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

جب وہ جمال دلفروز صورت مہر نیمروزآپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں

دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہتیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

حسن اور اس پہ حسن ظن رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں

واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضعراہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں

— مرزا غالب