11 اشعار

دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا

Dil mera soz-e-nihan se be-mahaba jal gaya

دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا

«دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیاآتش خاموش کی مانند گویا جل گیا

دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیںآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہامیری آہ آتشیں سے بال عنقا جل گیا

عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاںکچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہاراس چراغاں کا کروں کیا کار فرما جل گیا

میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دلدیکھ کر طرز تپاک اہل دنیا جل گیا

خانمان عاشقاں دکان آتش باز ہےشعلہ رو جب ہو گئے گرم تماشا جل گیا

تا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیالدل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا

ہے اسدؔ بیگانۂ افسردگی اے بیکسیدل ز انداز تپاک اہل دنیا جل گیا

دود میرا سنبلستاں سے کرے ہے ہم سریبسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا

شمع رویاں کی سر انگشت حنائی دیکھ کرغنچۂ گل پرفشاں پروانہ آسا جل گیا

— مرزا غالب