9 اشعار

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

Dil se teri nigah jigar tak utar gayi

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

«دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذت فراغتکلیف پردہ داری زخم جگر گئی

وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاںاٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میںبارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی

دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پاموج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی

نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی

مارا زمانہ نے اسداللہ خاں تمہیںوہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی

— مرزا غالب