9 اشعار

دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے

Diya hai dil agar is ko bashar hai kya kahiye

دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے

«دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئےہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے

یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے

رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے

زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریبکہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے

سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش حالکہ یہ کہے کہ سر رہ گزر ہے کیا کہئے

تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے

انہیں سوال پہ زعم جنوں ہے کیوں لڑیےہمیں جواب سے قطع نظر ہے کیا کہئے

حسد سزائے کمال سخن ہے کیا کیجیےستم بہائے متاع ہنر ہے کیا کہئے

کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکنسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے کیا کہئے

— مرزا غالب