10 اشعار

ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب

Ek ek qatra ka mujhe dena pada hisab

ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب

«ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 33 سیکنڈ ہے۔

ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حسابخون جگر ودیعت مژگان یار تھا

اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزوتوڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میںجاں دادۂ ہوائے سر رہ گزار تھا

موج سراب دشت وفا کا نہ پوچھ حالہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا

کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر ابدیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا

کس کا جنون دید تمنا شکار تھاآئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا

کس کا خیال آئنۂ انتظار تھاہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا

جوں غنچہ و گل آفت فال نظر نہ پوچھپیکاں سے تیرے جلوۂ زخم آشکار تھا

دیکھی وفائے فرصت رنج و نشاط دہرخمیازہ یک درازی عمر خمار تھا

صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔجس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا

— مرزا غالب