6 اشعار

ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا

Ek ja harf-e-wafa likha tha so bhi mit gaya

ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا

«ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیاظاہراً کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے

جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے

آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے

ہے وہی بد مستی ہر ذرہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

مجھ سے مت کہہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگیزندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے

آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تاتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے

— مرزا غالب