7 اشعار

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

Faryaad ki koi lay nahin hai

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

«فریاد کی کوئی لے نہیں ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

فریاد کی کوئی لے نہیں ہےنالہ پابند نے نہیں ہے

کیوں بوتے ہیں باغباں تونبےگر باغ گدائے مے نہیں ہے

ہر چند ہر ایک شے میں تو ہےپر تجھ سی کوئی شے نہیں ہے

ہاں کھائیو مت فریب ہستیہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے

شادی سے گزر کہ غم نہ ہووےاردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے

کیوں رد قدح کرے ہے زاہدمے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے

ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔآخر تو کیا ہے اے نہیں ہے

— مرزا غالب