9 اشعار

غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں

Ghafil ba-wahm-e-naz khud-aara hai warnah yan

غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں

«غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کا

بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگصید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا

رحمت اگر قبول کرے کیا بعید ہےشرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا

مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں کہ ہےپر گل خیال زخم سے دامن نگاہ کا

جاں در ہواۓ یک نگۂ گرم ہے اسدؔپروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا

عزلت گزین بزم ہیں واماندگان دیدمینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا

ہر گام آبلے سے ہے دل در تہ قدمکیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا

طاؤس در رکاب ہے ہر ذرہ آہ کایارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا

جیب نیاز عشق نشاں دار ناز ہےآئینہ ہوں شکستن طرف کلاہ کا

— مرزا غالب