13 اشعار

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس

Gham nahin hota hai aazadon ko besh az yak nafas

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس

«غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفسبرق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیالہیں ورق گردانیٔ نیرنگ یک بت خانہ ہم

باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیںہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم

ضعف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجوہیں وبال تکیہ گاۂ ہمت مردانہ ہم

دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسدؔجانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم

بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہمموئے شیشہ کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم

بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاعپنجۂ خورشید کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم

مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیالآشنا تعبیر خواب سبزۂ بیگانہ ہم

فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میںجوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم

شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سےپر فشان سوختن ہیں صورت پروانہ ہم

حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیےدو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم

کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیںعالم آب گداز جوہر افسانہ ہم

وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھننگ بالیدن ہیں جوں موئے سر دیوانہ ہم

— مرزا غالب