10 اشعار

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو

Gayi woh baat ke ho guftugoo to kyunkar ho

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو

«گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو

ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو

ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجےحیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو

تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو

جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو

ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو

غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو

بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قراروہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو

مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضورفراق یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو

— مرزا غالب