7 اشعار

غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی

Gham-e-duniya se gar paayi bhi fursat sar uthane ki

غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی

«غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یاربقسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہےولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی

انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی

ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

لکد کوب حوادث کا تحمل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی

کہوں کیا خوبی اوضاع ابنائے زماں غالبؔبدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی

— مرزا غالب