9 اشعار

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

Gham khane mein boda dil-e-nakaam bahut hai

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

«غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداش عمل کی طمع خام بہت ہے

ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاںپابستگی رسم و رہ عام بہت ہے

زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سےآلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کوانکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگرہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے

ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانےشاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

— مرزا غالب