10 اشعار

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

Ghun_cha-e nā-shigufta ko duur se mat dikhā ke yuuñ

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

«غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوںبوسہ کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں

پرسش طرز دلبری کیجیے کیا کہ بن کہےاس کے ہر ایک اشارہ سے نکلے ہے یہ ادا کہ یوں

رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں

غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یوں

بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں

میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہیسن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں

مجھ سے کہا جو یار نے جاتے ہیں ہوش کس طرحدیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئنہ دار بن گئی حیرت نقش پا کہ یوں

گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوالموج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں

جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسیگفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں

— مرزا غالب