9 اشعار

گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج

Gulshan mein bandobast ba-rang-e digar hai āj

گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج

«گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آجقمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج

آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھتار نفس کمند شکار اثر ہے آج

اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چلسیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج

معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظارچشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج

حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرارسر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج

ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یارنور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج

کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمامپیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج

تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنیدود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج

دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔمرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج

— مرزا غالب