8 اشعار

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی

Hāsil se haath dho baiṭh ai ārzū-KHarāmī

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی

«حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دےمیں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغ نا تمامی

کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائیسر پیٹتے ہیں اپنا ہم اور نیک نامی

صد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرناتیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی

طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی

طاقت فسانۂ باد اندیشہ شعلہ ایجاداے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی

ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکنہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی

ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغتدریا سے خشک گزرے مستوں کی تشنہ کامی

— مرزا غالب