13 اشعار

ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے

Hai ārmīdagī mein nikūhish bajā mujhe

ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے

«ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھےصبح وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے

ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے

مستانہ طے کروں ہوں رہ وادی خیالتا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے

کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہت گل سے حیا مجھے

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

واں رنگ ‌ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوزیاں شعلۂ چراغ ہے برگ حنا مجھے

پرواز‌ ہا نیاز تماشائے حسن دوستبال کشادہ ہے نگۂ آشنا مجھے

از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہےموج غبار سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے

تا چند پست فطرتیٔ طبع آرزویا رب ملے بلندیٔ دست دعا مجھے

میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس رنگخون جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے

ہے پیچ تاب رشتۂ شمع سحر گہیخجلت گدازیٔ نفس نارسا مجھے

یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہےزنار واگسستہ ہے موج صبا مجھے

یکبار امتحان ہوس بھی ضرور ہےاے جوش عشق بادۂ مرد آزما مجھے

— مرزا غالب