11 اشعار

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

Hai bas-ke har ik un ke ishāre mein nishāñ aur

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

«ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 46 سیکنڈ ہے۔

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور

یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

ابرو سے ہے کیا اس نگہ ناز کو پیوندہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میںہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور

ہے خون جگر جوش میں دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خوں نابہ فشاں اور

مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائےجلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور

لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ نہاں اور

لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چینکرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ و فغاں اور

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

— مرزا غالب