10 اشعار

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

Hairāñ huun dil ko ro_ūñ ke pīṭūñ jigar ko maiñ

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

«حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں

ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں

لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہےیہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھپہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں

پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یارجاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں

اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کاسمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں

غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند نازدیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں

— مرزا غالب